منقبتِ حضرت امام حسین پاک رضی اللہ عنہ

لہو سے اپنے چراغِ وفا جلا کے چلے حسین سر کو جھکا کر نہیں اٹھا کے چلے سپاہِ شام کے رنگ اڑ گئے سرِ میداں جو چند وار وہاں تیغِ لافتیٰ کے چلے زمانے بھر کی وفاوں کو رشک آنے لگا جہاں بھی تذکرے عباسِ باوفا کے چلے یہ کس کے صبرِ مثالی کا دبدبہ ہے جنید کہ ظلم اب بھی زمانے میں سر جھکا کے چلے ​

Comments

Popular posts from this blog

نئیں جاندا زمانہ عظمت صدیق دی

نعت شریف اور منقبتِ اولیاء

حضرت بایزید بسطامی اور فاحشہ عورت کا واقعہ۔